*منقبت امام حسین*
بے مثل ہے جہاں میں شجاعت حسین کی
بیشک بقائے دیں ہے شہادت حسین کی
یاروں بسا لو قلب میں الفت حسین کی
جنت میں لے کے جائے گی چاہت حسین کی
کرتا ہے دل سے جو بھی اطاعت حسین کی
محشر میں ساتھ ہوگی حمایت حسین کی
حب حسین ہی میں حب رسول پاک،
حب خدا ہی ہے یہ موَدّت حسین کی
مجھ سے حسین ہے میرا، میں ہوں حسین سے،
آقا نے یوں بتائی ہے عظمت حسین کی
سرکار کی سیادت و ہیبت حسن میں ہے،
آقا کی طرح پائی سخاوت حسین کی
وہ ہیں مشابہ ناف سے پا تک رسول کے
اس وجہ سے بلند ہے عظمت حسین کی
کندھوں پہ مصطفیٰ نے بیٹھا کر کے دیکھیے،
کتنی بلند کر دی ہے رفعت حسین کی
قَدْ جَآءَكُمْ کے نور سے روشن یہ نور ہے
پھیلی ہوئی ہے ہر جگہ طلعت حسین کی
دینِ نبی پے آپ نے گھر کو لوٹا دیا،
بے مثل ہے جہاں میں سخاوت حسین کی۔
جنت کے باغ خیمہ کے اندر دکھا دیے،
جنت یوں بانٹتے ہیں کہ جنت حسین کی۔
جنت کے نوجوانوں کے سردار ہے حسین
میں ہوں حسینی اور ہے جنت حسین کی۔
کیسے ہو ذبْح یاروں بَراہیم کا پسر،
منظور تھی خدا کو شہادت حسین کی۔
کل کائنات دیکھ کہ بولے یہ اہل دل،
بے مثل ہے جہاں میں شہادت حسین کی۔
قرآن پڑھ رہے ہے وہ نیزے کی نوک پر،
کیسی نرالی ہے یہ تلاوت حسین کی۔
نامِ یزید مٹ گیا دنیا سے دیکھ لو،
اب بھی دلوں پے كس کی حکومت حسین کی۔
ماتم یہ ڈھول اور خرافات دین میں !
کیا اس لیے ہوئی تھی شہادت حسین کی؟
دعویٰ حسینی اور یہ فعلِ یزیدیت،
تم پر کہاں سے ہوگی عنایت حسین کی؟
کیسے *معین* کر سکے کوئی بیان جب،
عقل و خرد سے بالا ہے عظمت حسین کی۔
دل میں *معین* تیرے بھی عشقِ حسین ہے،
کیسے نہ پائیگا تو شفاعت حسین کی۔
*از قلم: پٹھان معین رضا ازہری پیٹلاد*
*منقبت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ*
*صحابہ میں کوئی ثانی کہاں صدیقِ اکبر کا*
یہاں صدیقِ اکبر کا، وہاں صدیقِ اکبر کا
گدا اُن کا رہوں میں بے کراں صدیقِ اکبر کا۔
مراتب میں، فضائل میں، خلافت میں، حقیقت میں،
صحابہ میں کوئی ثانی کہاں صدیقِ اکبر کا۔
صداقت میں، شجاعت میں، اطاعت میں، قرابت میں،
صحابہ میں کوئی ثانی کہاں صدیقِ اکبر کا۔
خدا کی راہ میں یارو سب اپنا گھر لوٹا ڈالا،
سخاوت میں کوئی ثانی کہاں صدیقِ اکبر کا۔
گدا اُن کا کبھی مایوس ہوتا ہی نہیں یارو،
سدا رحمت کا دریا ہے رواں صدیقِ اکبر کا۔
سبھی اصحاب میں اول وہی افضل وہی اتقیٰ،
یہ دو جگ میں مکاں کس کا؟ مکاں صدیقِ اکبر کا۔
نبی کی نیند پر جاں کو لُٹایا غار میں اپنی،
وفاؤں میں کوئی دوجا کہاں صدیقِ اکبر کا۔
نبی کے بعد اعلیٰ ہے، ملائک بعد اعلیٰ ہے،
یقیناً دونوں عالم میں مکاں صدیقِ اکبر کا۔
رکھا ہے میرے آقا کو شبِ ہجرت جو کاندھوں پر،
تبی تو اس بلندی پہ مکاں صدیقِ اکبر کا۔
صداقت اس بلندی پہ کہ وہ صدیقِ اکبر ہے،
نہیں ہمتا کوئی دوجا یہاں صدیقِ اکبر کا۔
وہ سب سے متقیِ ہیں رب تعالیٰ نے کہا اتقیٰ،
کلامِ پاک میں آیا بیاں صدیقِ اکبر کا۔
امامت کو کِیا آگے میرے مختارِ عالم نے،
یوں رتبہ کر دیا سب پر عیاں صدیقِ اکبر کا۔
چمن میں اُن کے شامل ہے عمر، عثمان، حیدر بھی،
مہکتا کس قدر ہے گُلسِتاں صدیقِ اکبر کا۔
شیعو تم کوششیں کر لو مراتب کو گھٹانے کی،
خدا نے عوج پہ رکھّا مکاں صدیقِ اکبر کا۔
گزر جائیں گے یارو ہم یقیناً پُل سے لمحے میں،
جو ہاتھوں میں رہا دامن وہاں صدیقِ اکبر کا۔
سرِ محشر بلندی اِس طرح اُن کی عیاں ہوگی،
خدا اُن کا وہاں جو ہے یہاں صدیقِ اکبر کا۔
میرے مشکل کشا کا ہو نہیں سکتا وہ محشر میں،
عدو بن کے رہا جو بھی یہاں صدیقِ اکبر کا۔
'معینِ قادری' اُن کی فضیلت ہو بیاں کیسے،
مکاں جب عقلِ عالم سے وَراں صدیقِ اکبر کا۔
*از قلم: پٹھان معین رضا ازہری*


Manqabat
ReplyDelete